اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نیویارک ٹائمز کی صحافی میگی ہیبرمین، جو ٹرمپ سے متعلق خبروں کی کوریج کے لیے معروف ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر کے وائٹ ہاؤس کے عملے کے ساتھ تعلقات اس وقت خوشگوار نہیں ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ٹرمپ پہلے کے مقابلے میں زیادہ غصے میں نظر آئے ہیں اور اپنے ساتھیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
ہیبرمین نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے متعدد عہدیدار اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کے خواہش مند ہیں۔
تاہم وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس اینگل نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے میگی ہیبرمین پر ٹرمپ کی شخصیت پر حد سے زیادہ توجہ مرکوز کرنے اور اپنی صحافتی حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
دوسری جانب ایران کے خلاف جاری جنگ نے وائٹ ہاؤس میں اندرونی کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ ملاقات میں ملک کے گولہ بارود کے ذخائر میں کمی اور جنگ کے دوران فوجی کارروائیوں کے لیے پیدا ہونے والی ممکنہ مشکلات پر گفتگو کی اور موجودہ صورتحال پر ناراضی کا اظہار کیا۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ حکام کی تبدیلیوں اور عہدوں میں مسلسل ردوبدل کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
رپورٹس میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کیش پٹیل سے متعلق کشیدگی اور ٹرمپ کی قریبی معاون نٹالی ہارب کے حوالے سے پائی جانے والی ناراضی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ان تمام واقعات نے ایران کے خلاف جنگ اور آئندہ سیاسی چیلنجز کے درمیان ٹرمپ انتظامیہ پر بڑھتے ہوئے اندرونی دباؤ اور وائٹ ہاؤس میں اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
آپ کا تبصرہ